لون سلیمان
بانڈی پورہ: شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ایک دور افتادہ، سرحدی اور پسماندہ گاؤں “رفوجی تلیل” سے تعلق رکھنے والے نوجوان مصطفیٰ ابن جمیل نے دنیا کو دکھا دیا کہ جذبہ، خلوص اور فن کی طاقت سرحدوں اور محرومیوں کی قید کو توڑ سکتی ہے۔ مصطفیٰ نہ صرف فنِ خطاطی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اسلامی ثقافت، تعلیم اور سماجی خدمات کا روشن چہرہ بھی بن چکے ہیں۔
مصطفیٰ کا شاہکار منصوبہ المؤطّا امام مالک روایت ابن قاسم “المؤطّا سیریز” کا پہلا حصہ ہےجو 108 میٹر پر مشتمل ہے۔ یہ 1.3 کلومیٹر طویل سلسلہ صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ اسلامی ورثے سے جُڑی عقیدت، محنت اور ایک بکھری ہوئی تہذیب کی بازیافت کی علامت ہے۔
مصطفیٰ کہتے ہیں:
“یہ کام صرف عالمی ریکارڈ کے لیے نہیں، بلکہ ہماری شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔ ہم ایک گمشدہ گوشے سے ہیں، لیکن امت مسلمہ کا حصہ ہیں۔ ہمارا ثقافتی ورثہ، چاہے کتنا ہی بکھرا ہو، زندہ ہے، اور باقی رہنے کے قابل ہے۔”
اپنے بچپن میں والد کے سائے سے محروم ہونے والے مصطفیٰ نے شدید محرومیوں کے باوجود علم کا دامن نہ چھوڑا۔ ان کے گاؤں میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنا گھر بچوں کے لیے ایک اسکول میں بدل دیا۔ یہ بے مثال اقدام صرف تعلیم ہی نہیں، بلکہ ایک نسل کو شعور دینے کا ذریعہ بھی بن گیا۔
مصطفیٰ صرف ایک فنکار نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت گار بھی ہیں۔ وہ پناہ گزینوں اور نظرانداز شدہ طبقات کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی خطاطی ایک احتجاج بھی ہے، ایک پیغام بھی، اور ورثے کی حفاظت کی ایک مؤثر کوشش بھی۔
“ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جانے کہ ہم اب بھی زندہ ہیں، ہماری تہذیب اب بھی سانس لے رہی ہے۔ ہم اپنی شناخت کو کاغذ پر رقم کر رہے ہیں تاکہ تاریخ ہمیں بھول نہ سکے۔”
مصطفیٰ ابن جمیل آج اسلامی خطاطی میں نئی جہتوں کا اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچا فنکار اپنی مٹی سے جُڑا رہتا ہے، چاہے وہ مٹی کتنی ہی دور، خاموش یا نظرانداز کیوں نہ ہو۔
واقعی، رفوجی کلشے تلیل جیسے گاؤں سے نکل کر دنیا بھر میں اسلامی فن کا پرچم بلند کرنا کسی معجزے سے کم نہیں — اور مصطفیٰ ابن جمیل وہ معجزہ ہیں جو خلوص، جدوجہد اور علم کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔