
نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے جاری مذاکرات کے بعد 27 جنوری 2026 کو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے دی، جسے دونوں فریقین نے دوطرفہ تجارت کے لیے ایک بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تجارتی مسابقت میں تیزی آ رہی ہے اور بڑے معاشی بلاکس نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں جانب سے متعدد اشیاء پر درآمدی ٹیکس کم یا ختم کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافے متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے بھارت کو یورپی یونین کی 27 ممالک پر مشتمل وسیع منڈی تک بہتر رسائی ملے گی، جس سے ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے، مصالحہ جات، چائے، کافی، سمندری مصنوعات، ہینڈ کرافٹس اور جیمز اینڈ جیولری جیسی برآمدات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے، صنعتی پیداوار میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو یورپی مارکیٹ تک رسائی میں سہولت مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خدمات کے شعبے خصوصاً آئی ٹی، بزنس سروسز اور پروفیشنل خدمات میں بھی بھارت کو فائدہ ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب یورپی مصنوعات مثلاً مشینری اور اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی کی درآمد سستی ہونے سے بھارتی صارفین اور صنعتوں کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔